ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ’’صحافی محمد زبیر کی گرفتاری سچ پر حملہ ہے ‘‘عالمی سطح پر صحافیوں او ر تنظیموں کا ردعمل ،عدالت نے4دن کی حراست میں بھیج دیا

’’صحافی محمد زبیر کی گرفتاری سچ پر حملہ ہے ‘‘عالمی سطح پر صحافیوں او ر تنظیموں کا ردعمل ،عدالت نے4دن کی حراست میں بھیج دیا

Wed, 29 Jun 2022 11:14:50    S.O. News Service

نئی دہلی، 29؍ جون (ایس او نیوز؍ایجنسی)  آلٹ نیوز کے شریک بانی اور معروف صحافی  محمد زبیرکی گرفتاری کے خلاف  دنیا بھر کے سماجی کارکنان، صحافیوں  اور سیاسی لیڈران نے مودی حکومت اور دہلی پولیس کے خلاف ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور اس معاملے میں آن لائن احتجاج کرنے کے ساتھ ساتھ دہلی کی سڑکوں پر بھی احتجاج کیا جارہا ہے۔ کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے زبیر کی گرفتاری پر کہا کہ ’’بی جے پی کے لئے نفرت، کٹرپسندی اور جھوٹ کو ظاہر کرنے والا ہر شخص خطرہ ہے۔‘‘ ہیش ٹیگ ’ڈرو مت‘ کے ساتھ راہل گاندھی نے ایک ٹوئٹ میں لکھا کہ ’’سچ کی آواز کو گرفتار کرنے سے ہزار مزید پیدا ہوں گے۔ ظلم پر سچائی کی ہمیشہ جیت ہوتی ہے۔‘‘دوسری طرف کانگریس لیڈر ششی تھرور نے زبیر کی گرفتاری کو ’سچائی پر حملہ‘ قرار دیا اور ان کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ کانگریس لیڈر  جے رام رمیش نے بھی زبیر کی گرفتاری کو لے کر مرکزی حکومت اور پولیس پر سوال اٹھائے ۔عالمی سطح پر بھی اس تعلق سے شدید ردعمل پایا جارہا  ہے۔ زبیر کا معاملہ گزشتہ ایک روز سے ٹویٹر پر خاص طور پر موضوع بحث ہے اور ٹرینڈ ہو رہا ہے۔ 

 دوسری طرف متعدد عالمی تنظیموں نے بھی اس پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے زبیر کی گرفتاری کو فسطائیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک صحافی کو جس طرح  سے ہراساں کیا جارہا ہے وہ قابل مذمت  ہے۔  ایڈیٹرس گلڈ  نے بھی دہلی پولیس کے خلاف مذمتی بیان جاری کیا ہے اور زبیر کی فوری رہائی کا مطالبہ دہرایا ہے۔ صحافیوں کے تحفظ کی عالمی کمیٹی نے تو دہلی پولیس اور مودی حکومت کی اس حرکت کو کھلی ہوئی فسطائیت قرار دیا ہے اور عالمی سطح پر آواز بلند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ وہ ہندوستانی حکومت کی ہر فورم پر مخالفت کریں گے ۔ زبیر کے تعلق سے بین الاقوامی پریس انسٹی ٹیوٹ نےبھی آواز بلند کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ زبیر نے ہمیشہ سچائی کو مقدم رکھا ہے۔ انہوں نے صرف ’فیکٹ چیکنگ ‘ کی اور سچائی پوری دنیا کے سامنے پیش کی لیکن انہیں جس طرح سے نشانہ بنایا جارہا وہ سخت قابل مذمت  ہے۔

   دوسری طرف ایک دن کی حراست مکمل ہونے کے بعد منگل کو پولیس نے  زبیر کو عدالت میں پیش کیا جہاں پولیس کی جانب سے ان کی مزید ۵؍ دن کی حراست مانگی گئی جبکہ زبیر کی وکیل کی جانب سے اس کی سختی سے مخالفت کی گئی ۔ عدالت نے دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد زبیر کو  مزید ۴؍ دن کی تحویل میں بھیج دیا۔ اس سے قبل  عدالت میں محمد زبیر کی جانب سے ان کی وکیل مشہور ایڈوکیٹ  ورندا گروورنے زبردست جرح کی اور پولیس کے کیس کے بخیے ادھیڑ دئیے ۔ انہوںنے بتایا کہ محمد زبیر کو جس ٹویٹ کی بنیاد پر گرفتار گیا گیا ہے وہ ٹویٹ ۲۰۱۸ء کا ہے اور اس میں جو تصویر ٹویٹ ہوئی ہے وہ ۱۹۸۳ء میں ریلیز ہونے والی فلم ’کسی سے نہ کہنا‘ کا ایک منظر ہے ۔ یہ فلم سینسر بورڈ نے منظور کی تھی۔   ورندر ا گروور نے مزید کہا کہ اس ٹویٹ کو ۲۰۱۸ء کے بعد سے اب تک سیکڑوں مرتبہ ری ٹویٹ کیا جاچکا ہے۔ تو اب ایسی کیا آفت ٹوٹ پڑی کہ اس کے لئے زبیر کو گرفتار کرلیاگیا۔ ورندا گروور نے پولیس پر یہ سنسنی خیز الزام بھی لگایا کہ زبیر کو اس کے عقیدہ ، اس کے سوال پوچھنے کی عادت اور اس کی سچائی کو سامنے لانے کی عادت کی وجہ سے نشانہ بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ زبیر کو فوراً رہا کیا جائے اور دہلی پولیس کی سخت سرزنش کی جائے۔  ادھر سرکاری وکیل نے یہ دعویٰ کیا کہ زبیر نے جو ٹویٹ کیا وہ بہت زیادہ اشتعال انگیز تھا جس کی وجہ سے دو کمیونٹیز کے درمیان نفرت اور دشمنی بڑھ سکتی  ہے ۔ ساتھ ہی دو فرقوں میں تشدد بھی ہوسکتا تھا ۔ اسی لئے زبیر کو قانون کے دائرے میں لانا ضروری تھا ۔ عدالت نے دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد اپنا فیصلہ سنادیا۔


Share: